*ملازمین کی تنخواہوں کےلیے خزانہ خالی*

*ملازمین کی تنخواہوں کےلیے خزانہ خالی*

کسی زمیندار کی بھینس🐃 نے دودھ دینا بند کر دیا، زمیندار بڑا پریشان ھوا اسے ڈاکٹر کے پاس لیکر گیا، ڈاکٹر نے ٹیکے لگائے لیکن کوئی فرق نہ پڑا،تھک ھار کر وہ بھینس 🐃 کو پیر کے پاس لیگیا، شاہ جی نے دھونی رمائی، دم کیا، پھونک ماری لیکن وہ بھی بے سود رھیبھینس 🐃 کو کوئی فرق نہ پڑا۔ اسکے بعد وہ بھینس کو کسی سیانے کے پاس لے گیا، سیانے نے دیسی وٹکے لگائے پلیکن وہ بھی بےکار ثابت ھوئے آخر میں زمیندار نے سوچا کہ شایدکھانے کی مقدار بڑھانے سے مسئلہ ٹھیک ھو جائے! خوب کھل بنولہ کھلایا، کسی چیز کی کسر نہ چھوڑی لیکن بھینس 🐃نے دودھ دینا شروع نہ کیالاچار جوکر وہ اسے 🐃قصائی 🔪کے پاس لیکر جانے لگا کہ یہ اب کسی کام کی نہیں تو چلو ذبح ھی کروا لوں،راستے میں اسے ایک سائیں ملا۔ سائیں بولا: پریشان لگتے ھو، زمیندار نے اپنی پریشانی بیان کی، سائیں نے کہا تم کٹا کہاں باندھتے ھو؟ زمیندار بولا بھینس 🐃 کی کھُرلی کے پاس۔ سائیں نے پوچھا: کٹے کی رسی کتنی لمبی ھے؟ زمیندار بولا: کافی لمبی ھے!سائیں نے اونچا قہقہہ😁 لگایا اور بولا سارا دودھ تو کٹا چُنگ جاتا ھے! تمھیں کیا ملے گا،، کٹے کو بھینس 🐃 سے دور باندھو!قومی اسمبلی اور سینیٹ کی 50 کمیٹیاں ھیں! اور ھر کمیٹی کا ایک چیئرمین ھے۔ ھر چیئرمین کے ذاتی دفتر کی تیاری پر دو دو کڑور روپے خرچ ھوئے ہیں۔ ھر چیئرمین ایک لاکھ ستر ھزار روپے ماھانہ تنخواہ لیتا ھے، اسے گریڈ 17 کا ایک سیکرٹری، گریڈ 15 کا ایک سٹینو، ایک نائب قاصد، 1500cc گاڑی🚗 600 لیٹر پٹرول ماھانہ، ایک رھائش🏚 رھائش کے سارے اخراجات بل وغیرہ اسکے علاوہ ملتے ھیں! اسکے علاوہ اجلاسوں پر لگنے والے پیسے، دوسرے شھروں میں آنے جانے کیلئے فری جہاز ✈ کی ٹکٹ۔ایک اندازے کے مطابق یہ کمیٹیاں اب تک کھربوں روپوں کا دودھ ” چُنگ” چُکی ھیں!اگر ان کٹوں کی رسی کو کم نہ کیا گیا تو یہ اجلاس اسیطرح جاری رھیں گے اور یہ کٹے ایسے ھی، کھربوں روپوں کا دودھ “چُنگتے” رھیں گے!کیا پیٹ پر پتھر باندھنے اور کفایت شعاری کیلئے اقوال زریں صرف عوام کیلئے ھیں؟روندے چمن والوں کے لیے 👇*۔۔ملازمین کی تنخواہوں کےلیے خزانہ خالی ہے کٹا سارا دودھ چگ گیا۔۔۔* 😛😜😂😁😛

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *