intercourse play

intercourse play

کچھ خواتین مردوں کی نسبت مباشرت کی کم خواہش رکھتی ہیں آج میں آپ جو بتارہا ہوں وہ کم ہی لوگ جانتےہو گے وہ یہ ہےکہ شادی کے شروع میں خآوند کو بیوی سے زیادہ مباشرت کرنےکی خواہش ہوتی ہے لیکن درمیانی عمر (28 45 )میں الٹ یعنی اس عمر میں عورت زیادہ جنسی خواہش رکھتی ہے۔ مشاہدات میں 5 فیصد عورتوں میں شادی کےبعد مباشرت کی خواہش نسبتا کم تھی یعنی شادی کے ابتدائی دنوں ان میں جنسی خواہش کم تھی،
مگر 60 فیصد عورتوں میں 28 سے 45 سال کی بیویوں نے بتایا کے ان کی خواہش ہے کے مباشرت زیادہ سے زیادہ ہو اس کا مطلب 28 سے 45 سال کے درمیان عورت کےاندر جنسی خواہش بڑھ جاتی، اس عمرمیں خاوند کو چاہیے کہ اپنی بیوی کی خواہش کا حاص خیال رکھے، تاکہ عورت کسی غلط راستے پر نہ نکلے۔
یہاں میں آپ کو بتاتا چلوں جیسے مرد کے اندر سیکس کی خواہش ہوتی ہے ویسے ہی عورت کے اندر مرد سے 10 فیصد زیادہ سیکس کی خواہش ہوتی ہے، پر مرد سیکس کو زیادہ اہمیت دیتا ہے جب کہ عورت رومانس کو زیادہ اہمیت دیتی ہے۔
میرا خیال ہے کے دونوں مباشرت چاہتے ہیں یعنی دونوں جنسی خواہش کےحوالے سے مختلیف نہیں دوسرےالفاظ میں یعنی عورت بھی سیکس کو پسند کرتی ہے،
فرق بس یہ ہے کہ عورت کو سیکس سے بھرپور لطف اندوز ہونے کے لیے کم از کم 30 سے 35 منٹ رومانس کی ضرورت ہوتی ہے، جس سے اس کی فرج گیلی اور نرم ہو جاتی ہے۔اس سے دخول کے دوران عورت کو درد تکلیف نہیں ہوتی۔

جب کےعموما مرد 5 سے 6 منٹ کے کھیل سے فارغ ہو جاتے اور بعض 3 سے 4 منٹ اور بعض ایسے ہیں جو فورا 1 سے 2 منٹ فارغ ہو جاتے ہیں۔ اس سے ہوتا یہ ہے کے مرد جنسی سکون حاصل کر سائیڈ پر ہوکر سو جاتا ہے اور عورت بجاری کو نارمل حالت میں آنے کے لیے 2 سے 3 گھنٹے لگتے ہیں۔

اگر یہی حالت مباشرت میں 4 یا 5 ماہ مسلسل رہے تو عورت نفسیاتی مریضہ بن جاتی یے، سردرد، چڑچڑاپن، لیکوریا، جسمانی اور کمردرد، ایام ماہواری میں بے قاعدگیاں، گھر میں چھوٹی چھوٹی باتوں پر لڑائی جھگڑا عام بات بن جاتی ہے، اور ایسی حالت میں عورت کھبی خوش نظر نہیں آے گی،
جیسے مرد کےلیے ارگیزم حاصل کرنا، ضروری ہے ویسے ہی عورت اور عورت کی صحت کےلیے ارگیزم حاصل کرنا بہت ضروری ہے.
بہت لوگوں کا خیال ہے کے جب عورت 2 – 3 بچوں کی ماں بن جائے یا 28 سال سے اوپر ہو جائے تو اسے سیکس اور ارگیزم کی کوئی حاص ضرورت نہیں ہوتی پر سچ بات تو یہ کے عورت کو اس عمر میں زیادہ پیار محبت کی ضرورتیں

ہے وہ اس عمرمیں اکیلاپن محسوس کرتی ہے

مباشرت

ماہرین مخصوصہ کے جید حکماء و ڈاکٹرز صاحبان شاہستروں کی تحقیقات ریسرچ اور مشاہدات کے مطابق چند سطور:-

عورت کے انزال کی کئی کیفیتیں ہوتی ہیں ،
جنہیں عموماً مرد سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں بلکہ میں تو یہاں تک کہوں گا کہ بہت سی عورتوں کو بھی انزال کے آخری اسٹیج جسے آرگینزم کہتے ہیں پتہ تک نہیں، عورت کا آرگنزم حاصل کرنا اتنا آسان نہیں جتنا سمجھا جاتا ہے، جسے آپ ڈسچارج کہتے ہیں۔
یہ ابتدائی ڈسچارج ہے جس کے بعد مزید ڈسچارج کے مراحل ہوتے ہیں مرد تو صرف دو بار ہی انزال حاصل کرسکے گا مگر عورت ایک مرتبہ کے مباشرت میں کئی بار ڈسچارج ہوسکتی ہے، مرد کے ڈسچارج کے دو مراحل ممکن ہیں ایک تو ابتدائی جب بوس و کنار کا مرحلہ ہو تو مرد کے عضو سے پانی نکلے گا اور دوسری بار جب مرد انزال یا ڈسچارج کرے گا تو بہت سا پانی جسے منی کہیں گے۔ مرد کے عضو سے نکلے گا اور یہ مرد کا آخری انزال ہوگا،
جب کہ عورت ان مراحل میں کئی بار ڈسچارج کے مزے لوٹ سکتی ہے اور آخری ڈسچارج آرگینزم کہلائے گا ،،

اگر اس دوران مرد مزید مباشرت کرنے سے قاصر ہو تو معامل ختم لیکن اگر مرد مسلسل بوس و کنار و مباشرت میں لگا رہے تو عورت اسی مباشرت میں دوسری مرتبہ بھی تیار ہوکر ڈسچارج ہوتے ہوئے دوبارہ آرگینزم کی جانب بڑھے گی اس کا مطلب یہی ہوا کہ عورت مسلسلآ آرگینزم حاصل کرسکتی ہے مسلسل ڈسچارج ہوتی رہتی ہے،،
عمومی طور پر عورت کے ڈسچارج کی تین حالتیں ہیں، پہلی جب بوس کنار ہورہا ہو تو عورت گرم ہوتی ہے جس پر وئجینا ہلکا سے پانی چھوڑ کر اسے گیلا کرے گا جس کا مطلب وئجینا دخول کے قابل ہے ، بعض حالتوں میں مرد اسے ہی ڈسچارج سمجھ بیھٹتے ہیں ،
مرداگر بوس و کنار کے بجائے فوراً دخول کرے گا تو پہلا ڈسچارج جو 2 تین منٹ میں ہوگا وہ ہلکا سا ہوگا بعض مرد اسے ہی عورت کا ڈسچارج سمجھ بیھٹتے ہیں، اگر اس مرحلے پر اگر مباشرت ختم کردی جائے تو عورت کی تشنگی برقرار رہتی ہے یہی سے مسائل جنم لیتے ہیں۔۔

عورت کا دوسرا انزال دو تین ڈسچارج پر میحط ہوکر آرگینزم کی جانب بڑھے گا اور آرگینزم ہوتے ہوئے عورت ڈسچارج ہوگی،
مختلف عورتوں میں آرگینزم حاصل کرنے کے مختلف طریقے ہیں اگر کوئی عورت آرگینزم کے وقت زور زور ناخن چبوئے گی تو کوئی زور سے اپنے ہاتھوں بھینچے گی کسی کے منہ سے سسکیاں نکلے گی تو کوئی زور زور سے آوازیں نکالے گی اور کوئی عورت مرد کو زور سے جکڑ لے گی،
الغرض ہر عورت کی مختلف حالتیں ہوتی ہیں اور ہر عورت کا آرگینزم حاصل کرنے کا وقت بھی بالکل مختلف ہی ہوتا ہے ضروری نہیں کہ یہ تمام 10 منٹ کا پروسس ہو ممکن ہے یہ تمام مراحل آدھے گھنٹے میں طے ہوں یا عین ممکن ہے کہ یہ تمام کارروائی 3 سے 4 منٹ کی ہو یا کہ بالکل ہوسکتا ہے کہ یہ سب کچھ 2 منٹ میں ہی ہوجائے۔

ماہرین کی رائے اور مخصوصہ امراض کے جید حکماء کی تحقیق کے مطابق عورت کے ساتھ بوس و کنار، پیار نازک حصوں کو چھیڑنا مساج کرنا، تب جاکر شہوت میں تیزی آتی ہے۔ کیونکہ عورت کی شہوت 15 دن دائیں جانب اور 15 دن بائیں جانب جسم میں گردش کرتی رہتی ہے،
یہ معاملہ سر گدی سے لیکر پاؤں کی ایڑیاں انگوٹھے تک ہے۔
مرد ہر وقت تیار رہتا ہے اور جلد شہوت انگیزی میں آ جاتے ہیں۔ لیکن عورت کو ایسا نہیں ہوتا کچھ قدرتی عوامل ہیں، بیوی کو رضا مند کرنا اور لطف اندوز و لذت کیلئے تیار کرنا کرنا ضروری ہے۔ بغیر رضامندی شہوت انگیزی نہ ہونے سے پیار و لذت طمانیت حاصل نہیں ہوتی۔
دنیاوی تہذیبی اور شرعی حالت میں عورتیں مرد(خاوند) کی خواہش کے آگے سرنگوں رہتی ہیں اور انکار نہیں کرتیں۔
مباشرت کے لیے عورت (بیوی) کی رضامندی ہونی چاہئے، زبردستی نہیں

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *